تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 31
قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ﴿31﴾
- قُلْکہ دیں
- لِّعِبَادِيَمیرے بندوں سے
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- يُقِيْمُواقائم کریں
- الصَّلٰوةَنماز
- وَيُنْفِقُوْااور خرچ کریں
- مِمَّااس سے جو
- رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
- سِرًّاچھپا کر
- وَّعَلَانِيَةًاور ظاہر
- مِّنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْ يَّاْتِيَکہ آجائے
- يَوْمٌوہ دن
- لَّا بَيْعٌنہ خریدو فروخت
- فِيْهِاس میں
- وَلَا خِلٰلٌاور نہ دوستی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے کھُلے اور چھُپے(راہِ خیرمیں)خرچ کریں41 قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔42
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 41
مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی روش کفار کی روش سے مختلف ہونی چاہیے۔ وہ تو کافر نعمت ہیں۔ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اس شکر گزاری کی عملی صورت یہ ہے کہ نماز قائم کریں اور خدا کی راہ میں اپنے مال خرچ کریں۔
سورة اِبْرٰهِیْم 42
یعنی نہ تو وہاں کچھ دے دلا کر ہی نجات خریدی جاسکے گی اور نہ کسی کی دوستی کام آئے گی کہ وہ تمہیں خدا کی پکڑ سے بچالے۔