Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 19

  1. وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ﴿19﴾

    1. وَالْاَرْضَاور زمین
    2. مَدَدْنٰهَاہم نے اس کو پھیلا دیا
    3. وَاَلْقَيْنَااور ہم نے رکھے
    4. فِيْهَااس میں (پر)
    5. رَوَاسِيَپہاڑ
    6. وَاَنْۢبَتْنَااور ہم نے اگائی
    7. فِيْهَااس میں
    8. مِنْسے
    9. كُلِّ شَيْءٍہر شئے
    10. مَّوْزُوْنٍموزوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اُس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تُلی مقدار کے ساتھ اُگائی،13
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحِجْر 13 اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے ایک اور اہم نشان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نباتات اور ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع مل جاتا تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی وہ نظر آتی، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہتی۔ مگر یہ ایک حکیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے مطابق بےحد و حساب اقسام کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہیں اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی منظر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر نوع کی جسامت، پھیلاؤ، اٹھان اور نشوونما کی ایک حد مقرر ہے جس سے نباتات کی کوئی قسم بھی تجاوز نہیں کرسکتی۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ہر درخت، ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کے لیے جسم، قد، شکل، برگ و بار اور پیداوار کی ایک مقدار پورے ناپ تول اور حساب و شمار کے ساتھ مقرر کر رکھی ہے۔