تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 65
فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ﴿65﴾
- فَاَسْرِپس لے نکلیں آپ
- بِاَهْلِكَاپنے گھر والوں کو
- بِقِطْعٍایک حصہ
- مِّنَسے
- الَّيْلِرات
- وَاتَّبِعْاور خود چلیں
- اَدْبَارَهُمْان کے پیچھے
- وَلَااور نہ
- يَلْتَفِتْپیچھے مڑ کر دیکھے
- مِنْكُمْتم میں سے
- اَحَدٌکوئی
- وَّامْضُوْااور چلے جاؤ
- حَيْثُجیسے
- تُؤْمَرُوْنَتمہیں حکم دیا گیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاوٴ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔37 تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔38 بس سیدھے چلے جاوٴ جِدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحِجْر 37
یعنی اس غرض سے اپنے گھر والوں کے پیچھے چلو کہ ان میں سے کوئی ٹھیرنے نہ پائے۔
سورة الْحِجْر 38
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پلٹ کر دیکھتے ہی تم پتھر کے ہوجاؤ گے، جیسا کہ بائیبل میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچھے کی آوازیں اور شور و غل سن کر تماشا دیکھنے کے لیے نہ ٹھیر جانا۔ یہ نہ تماشا دیکھنے کا وقت ہے، اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا۔ ایک لمحہ بھی اگر تم نے معذب قوم کے علاقے میں دم لے لیا تو بعید نہیں کہ تمہیں بھی اس ہلاکت کی بارش سے کچھ گزند پہنچ جائے۔