Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 116

  1. وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ﴿116﴾

    1. وَاور
    2. لَا تَقُوْلُوْاتم نہ کہو
    3. لِمَاوہ جو
    4. تَصِفُبیان کرتی ہیں
    5. اَلْسِنَتُكُمُتمہاری زبانیں
    6. الْكَذِبَجھوٹ
    7. ھٰذَایہ
    8. حَلٰلٌحلال
    9. وَّھٰذَااور یہ
    10. حَرَامٌحرام
    11. لِّتَفْتَرُوْاکہ بہتان باندھو
    12. عَلَيپر
    13. اللّٰهِاللہ
    14. الْكَذِبَجھوٹ
    15. اِنَّبیشک
    16. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    17. يَفْتَرُوْنَبہتان باندھتے ہیں
    18. عَلَيپر
    19. اللّٰهِاللہ
    20. الْكَذِبَجھوٹ
    21. لَا يُفْلِحُوْنَفلاح نہ پائیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ جو تمہاری زبانیں جھُوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھُوٹ نہ باندھا کرو۔116 جو لوگ اللہ پر جھُوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پایا کرتے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّحْل 116 یہ آیت صاف تصریح کرتی ہے کہ خدا کے سوا تحلیل و تحریم کا حق کسی کو بھی نہیں، یا بالفاظ دیگر قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا جو شخص بھی جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرنے کی جرأت کرے گا وہ اپنے حد سے تجاوز کرے گا، الا یہ کہ وہ قانون الہی کو سند مان کر اس کے فرامین سے استنباط کرتے ہوئے یہ کہے کہ فلاں چیز یا فلاں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔ اس خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اس طرح کے احکام لگاتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الہی کی سند سے بےنیاز ہو کر جائز یا ناجائز کہہ رہا ہے اسے خدا نے جائز یا ناجائز ٹھیرایا ہے۔ یا اس کا دعوی یہ ہے کہ اللہ نے تحلیل و تحریم کے اختیارات سے دست بردار ہو کر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ ان میں سے جو دعوی بھی وہ کرے وہ لامحالہ جھوٹ اور اللہ پر افترا ہے۔