تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 75
Tafseerضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾
- ضَرَبَبیان کیا
- اللّٰهُاللہ
- مَثَلًاایک مثال
- عَبْدًاایک غلام
- مَّمْلُوْكًاملک میں آیا ہوا
- لَّا يَقْدِرُوہ اختیار نہیں رکھتا
- عَلٰيپر
- شَيْءٍکسی شئے
- وَّمَنْاور جو
- رَّزَقْنٰهُہم نے اسے رزق دیا
- مِنَّااپنی طرف سے
- رِزْقًارزق
- حَسَنًااچھا
- فَهُوَسو وہ
- يُنْفِقُخرچ کرتا ہے
- مِنْهُاس سے
- سِرًّاپوشیدہ
- وَّجَهْرًااور ظاہر
- هَلْکیا
- يَسْتَوٗنَوہ برابر ہیں
- اَلْحَمْدُتمام تعریف
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- بَلْبلکہ
- اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
- لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ ایک مثال دیتا ہے 66۔ ایک تو ہے غلام، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دُوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھُلے اور چھُپے خوب خرچ کرتا ہے۔ بتاوٴ ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟۔۔۔۔ الحمدُللہ67 مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو)نہیں جانتے۔68
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّحْل 66
یعنی اگر مثالوں ہی سے بات سمجھنی ہے تو اللہ صحیح مثالوں سے تم کو حقیقت سمجھاتا ہے۔ تم جو مثالیں دے رہے ہو وہ غلط ہیں، اس لیے تم ان سے غلط نتیجے نکال بیٹھتے ہو۔
سورة النَّحْل 67
سوال اور الحمد للہ کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے بھرنے کے لیے خود لفظ الحمد للہ ہی میں بلیغ اشارہ موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لیے اس کا یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ دونوں برابر ہیں۔ لا محالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں، اور کسی نے اس اندیشے سے خاموشی اختیار کرلی ہوگی کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے منطقی نتیجے کا بھی اقرار کرنا ہوگا اور اس سے خود بخود ان کے شرک کا ابطال ہوجائے گا۔ لہٰذا نبی نے دونوں کا جواب پا کر فرمایا الحمد للہ۔ اقرار کرنے والوں کے اقرار پر بھی الحمد للہ، اور خاموش رہ جانے والوں کی خاموشی پر بھی الحمد للہ۔ پہلی صورت میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ ”خدا کا شکر ہے، اتنی بات تو تمہاری سمجھ میں آئی“۔ دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ”خاموش ہوگئے ؟ الحمد للہ۔ اپنی ساری ہٹ دھرمیوں کے باوجود دونوں کو برابر کہہ دینے کی ہمت تم بھی نہ کرسکے“۔
سورة النَّحْل 68
یعنی باوجودیکہ انسانوں کے درمیان وہ صریح طور پر با اختیار اور بےاختیار کے فرق کو محسوس کرتے ہیں، اور اس فرق کو ملحوظ رکھ کر ہی دونوں کے ساتھ الگ الگ طرز عمل اختیار کرتے ہیں، پھر بھی وہ ایسے جاہل و نادان بنے ہوئے ہیں کہ خالق اور مخلوق کا فرق ان کو سمجھ میں نہیں آتا۔ خالق کی ذات اور صفات اور حقوق اور اختیارات، سب میں وہ مخلوق کو اس کا شریک سمجھ رہے ہیں اور مخلوق کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں جو صرف خالق کے ساتھ ہی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ عالم اسباب میں کوئی چیز مانگنی ہو تو گھر کے مالک سے مانگیں گے نہ کہ گھر کے غلام سے۔ مگر مبدا فیض سے حاجات طلب کرنی ہوں تو کائنات کے مالک کو چھوڑ کر اس کے بندوں کے آگے ہاتھ پھیلا دیں گے۔