Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 78

Tafseer
  1. وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿78﴾

    1. وَاللّٰهُاور اللہ
    2. اَخْرَجَكُمْتمہیں نکالا
    3. مِّنْسے
    4. بُطُوْنِپیٹ (جمع)
    5. اُمَّهٰتِكُمْتمہاری مائیں
    6. لَا تَعْلَمُوْنَتم نہ جانتے تھے
    7. شَيْئًاکچھ بھی
    8. وَّجَعَلَاور اس نے بنایا
    9. لَكُمُتمہارے لیے
    10. السَّمْعَکان
    11. وَالْاَبْصَارَاور آنکھیں
    12. وَالْاَفْئِدَةَاور دل (جمع)
    13. لَعَلَّكُمْتاکہ تم
    14. تَشْكُرُوْنَتم شکر ادا کرو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ نے تم کو تمہاری ماوٴں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اُس نے تمہیں کان دیے ، آنکھیں دیں، اور سوچنےوالے دل دیے72، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو۔73
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّحْل 72 یعنی وہ ذرائع جن سے تمہیں دنیا میں ہر طرح کی واقفیت حاصل ہوئی اور تم اس لائق ہوئے کہ دنیا کے کام چلا سکو۔ انسان کا بچہ پیدائش کے وقت جتنا بےبس اور بیخبر ہوتا ہے اتنا کسی جانور کا نہیں ہوتا۔ مگر یہ صرف اللہ کے دیے ہوئے ذرائع علم (سماعت، بینائی، اور تعقل و تفکر) ہی میں ہیں جن کی بدولت وہ ترقی کر کے تمام موجودات ارضی پر حکمرانی کرنے کے لائق بن جاتا ہے۔ سورة النَّحْل 73 یعنی اس خدا کے شکر گزار جس نے یہ بےبہا نعمتیں تم کو عطا کیں۔ ان نعمتوں کی اس سے بڑھ کر ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کانوں سے آدمی سب کچھ سنے مگر ایک خدا ہی کی بات نہ سنے، ان آنکھوں سے سب کچھ دیکھے مگر ایک خدا ہی کی آیات نہ دیکھے اور اس دماغ سے سب کچھ سوچے مگر ایک یہی بات نہ سوچے کہ میرا وہ محسن کون ہے جس نے یہ انعامات مجھے دیے ہیں۔