تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 86
وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿86﴾
- وَاِذَااور جب
- رَاَدیکھیں گے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اَشْرَكُوْاانہوں نے شرک کیا (مشرک)
- شُرَكَآءَهُمْاپنے شریک
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- هٰٓؤُلَآءِیہ ہیں
- شُرَكَآؤُنَاہمارے شریک
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- كُنَّا نَدْعُوْاہم پکارتے تھے
- مِنْ دُوْنِكَتیرے سوا
- فَاَلْقَوْاپھر وہ ڈالیں گے
- اِلَيْهِمُان کی طرف
- الْقَوْلَقول
- اِنَّكُمْبیشک تم
- لَكٰذِبُوْنَالبتہ تم جھوٹے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے ”اے پروردگار، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پُکارا کرتے تھے۔“ اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ”تم جھُوٹے ہو۔“83
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّحْل 83
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بجائے خود اس واقعہ کا انکار کریں گے کہ مشرکین انہیں حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے پکارا کرتے تھے، بلکہ دراصل وہ اس واقعہ کے متعلق اپنے علم و اطلاع اور اس پر اپنی رضامندی و ذمہ داری کا انکار کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو، نہ ہم تمہاری اس حرکت پر راضی تھے، بلکہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہمیں پکار رہے ہو۔ تم نے اگر ہمیں سمیع الدُّعا اور مجیب الدعوات، اور دستگیر و فریاد رس قرار دیا تھا تو یہ قطعی ایک جھوٹی بات تھی جو تم نے گھڑ لی تھی اور اس کے ذمہ دار تم خود تھے۔ اب ہمیں اس کی ذمہ داری میں لپیٹنے کی کوشش کیوں کرتے ہو۔