تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 16. An-Nahl · Ayah 96
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿96﴾
- مَاجو
- عِنْدَكُمْتمہارے پاس
- يَنْفَدُوہ ختم ہوجاتا ہے
- وَمَااور جو
- عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے پاس
- بَاقٍباقی رہنے والا
- وَلَنَجْزِيَنَّاور ہم ضرور دیں گے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- صَبَرُوْٓاانہوں نے صبر کیا
- اَجْرَهُمْان کا اجر
- بِاَحْسَنِاس سے بہتر
- مَاجو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں98 کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّحْل 98
" صبر سے کام لینے والوں کو "، یعنی ان لوگوں کو جو راہ طمع اور خواہش اور جذبہ نفسانی کے مقابلہ میں حق اور راستی پر قائم رہیں، ہر اس نقصان کو برداشت کرلیں جو اس دنیا میں راستبازی اختیار کرنے سے پہنچتا ہو، ہر اس فائدے کو ٹھکرا دیں جو دنیا میں ناجائز طریقے اختیار کرنے سے حاصل ہوسکتا ہو، اور حسن عمل کے مفید نتائج کے لیے اس وقت تک انتظار کرنے کے لیے تیار ہوں جو موجودہ دنیوی زندگی ختم ہوجانے کے بعد دوسری دنیا میں آنے والا ہے۔