Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 39

Tafseer
  1. ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا﴿39﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. مِمَّآاس سے جو
    3. اَوْحٰٓىوحی کی
    4. اِلَيْكَتیری طرف
    5. رَبُّكَتیرا رب
    6. مِنَ الْحِكْمَةِحکمت سے
    7. وَلَااور نہ
    8. تَجْعَلْبنا
    9. مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
    10. اِلٰهًامعبود
    11. اٰخَرَکوئی اور
    12. فَتُلْقٰىپھر تو ڈالدیا جائے
    13. فِيْ جَهَنَّمَجہنم میں
    14. مَلُوْمًاملامت زدہ
    15. مَّدْحُوْرًادھکیلا ہوا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے ربّ نے تجھ پر وحی کی ہیں۔اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کو ئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تُو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر 45
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 45 بظاہر تو خطاب نبی ﷺ سے ہے، مگر ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے جو بات فرمایا کرتا ہے اس کا اصل مخاطب ہر انسان ہوا کرتا ہے۔