Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 52

Tafseer
  1. یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ع﴿52﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَدْعُوْكُمْوہ پکارے گا تمہیں
    3. فَتَسْتَجِيْبُوْنَتو تم جواب دو گے (تعمیل کروگے)
    4. بِحَمْدِهٖاسکی تعریف کے ساتھ
    5. وَتَظُنُّوْنَاور تم خیال کروگے
    6. اِنْکہ
    7. لَّبِثْتُمْتم رہے
    8. اِلَّاصرف
    9. قَلِيْلًاتھوڑی دیر
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آوٴ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں۔56“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 56 یعنی دنیا میں مرنے کے وقت سے لے کر قیامت میں اٹھنے کے وقت تک کی مدت تم کو چند گھنٹوں سے زیادہ محسوس نہ ہوگی۔ تم اس وقت یہ سمجھو گے کہ ہم ذرا دیر سوئے پڑے تھے کہ یکایک اس شور محشر نے ہمیں جگا اٹھایا۔ اور یہ جو فرمایا کہ تم اللہ کی حمد کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گے، تو یہ ایک بڑی حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن اور کافر، ہر ایک کی زبان پر اس وقت اللہ کی حمد ہوگی۔ مومن کی زبان پر اس لیے کہ پہلی زندگی میں اس کا اعتقاد یقین اور اس کا وظیفہ یہی تھا۔ اور کافر کی زبان پر اس لیے کہ اس کی فطرت میں یہی چیز ودیعت تھی، مگر اپنی حماقت سے وہ اس پر پردہ ڈالے ہوئے تھا۔ اب نئے سرے سے زندگی پاتے وقت سارے مصنوعی حجابات ہٹ جائیں گے اور اصل فطرت کی شہادت بلا ارادہ اس کی زبان پر جاری ہوجائے گی۔