تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 59
Tafseerوَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا﴿59﴾
- وَمَا مَنَعَنَآاور نہیں ہمیں روکا
- اَنْکہ
- نُّرْسِلَہم بھیجیں
- بِالْاٰيٰتِنشانیاں
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ کہ
- كَذَّبَجھٹلایا
- بِهَاان کو
- الْاَوَّلُوْنَاگلے لوگ (جمع)
- وَاٰتَيْنَااور ہم نے دی
- ثَمُوْدَثمود
- النَّاقَةَاونٹنی
- مُبْصِرَةًدکھانے کو (ذریعہ بصیرت
- فَظَلَمُوْا بِهَاانہوں نے اس پر ظلم کیا
- وَاور
- مَا نُرْسِلُہم نہیں بھیجتے
- بِالْاٰيٰتِنشانیاں
- اِلَّامگر
- تَخْوِيْفًاڈرانے کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم کو نشانیاں67 بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جُھٹلا چکے ہیں۔ (چنانچہ دیکھ لو)ثمود کو ہم علانیہ اُونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اُس پر ظلم کیا۔ 68ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں۔69
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 67
یعنی محسوس معجزات جو دلیل نبوت کی حیثیت سے پیش کیے جائیں، جن کا مطالبہ کفار قریش بار بار نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 68
مدعا یہ ہے کہ ایسا معجزہ دیکھ لینے کے بعد جب لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں، تو پھر لا محالہ ان پر نزول عذاب واجب ہوجاتا ہے، اور پھر ایسی قوم کو تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ پچھلی تا ریخ اس بات کی شاہد ہے کہ متعدد قوموں نے صریح معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی ان کو جھٹلایا اور پھر تباہ کردی گئیں۔ اب یہ سراسر اللہ کی رحمت ہے کہ وہ ایسا کوئی معجزہ نہیں بھیج رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہیں سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے مہلت دے رہا ہے۔ مگر تم ایسے بیوقوف لوگ ہو کہ معجزے کا مطالبہ کر کر کے ثمود کے سے انجام سے دوچار ہونا چاہتے ہو۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 69
یعنی معجزے دکھانے سے مقصود تماشا دکھانا تو کبھی نہیں رہا ہے۔ اس سے مقصود تو ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگ انہیں دیکھ کر خبردار ہوجائیں، انہیں معلوم ہوجائے کہ نبی کی پشت پر قادر مطلق کی بےپناہ طاقت ہے، اور وہ جان لیں کہ اس کی نافرمانی کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔