تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 58
Tafseerوَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا﴿58﴾
- وَاِنْاور نہیں
- مِّنْ قَرْيَةٍکوئی بستی
- اِلَّامگر
- نَحْنُہم
- مُهْلِكُوْهَااسے ہلاک کرنے والے
- قَبْلَپہلے
- يَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کا دن
- اَوْیا
- مُعَذِّبُوْهَااسے عذاب دینے والے
- عَذَابًاعذاب
- شَدِيْدًاسخت
- كَانَہے
- ذٰلِكَیہ
- فِي الْكِتٰبِکتاب میں
- مَسْطُوْرًالکھا ہوا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں۔66 یہ نوشتہء الٰہی میں لکھا ہوا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 66
یعنی بقائے دوام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہر بستی کو یا تو طبعی موت مرنا ہے، یا خدا کے عذاب سے ہلاک ہونا ہے۔ تم کہاں اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ ہماری یہ بستیاں ہمیشہ کھڑی رہیں گی ؟