Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 62

Tafseer
  1. قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا﴿62﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. اَرَءَيْتَكَبھلا تو دیکھ
    3. هٰذَایہ
    4. الَّذِيْوہ جسے
    5. كَرَّمْتَتونے عزت دی
    6. عَلَيَّمجھ پر
    7. لَئِنْالبتہ اگر
    8. اَخَّرْتَنِتو مجھے ڈھیل دے
    9. اِلٰىتک
    10. يَوْمِ الْقِيٰمَةِروز قیامت
    11. لَاَحْتَنِكَنَّجڑ سے اکھاڑ دوں گا ضرور
    12. ذُرِّيَّتَهٗٓاس کی اولاد
    13. اِلَّاسوائے
    14. قَلِيْلًاچند ایک
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر وہ بولا”دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تُو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تُو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پُوری نسل کی بیخ کَنی کر ڈالوں75، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 75 ”بیخ کنی کر ڈالوں“ ، یعنی ان کے قدم سلامتی کی راہ سے اکھاڑ پھینکوں۔”احتناک“ کے اصل معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے ہیں۔ چونکہ انسان کا اصل مقام خلافت الہی ہے جس کا تقاضا اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہے، اس لیے اس مقام سے اس کا ہٹ جانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی درخت کا بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جانا۔
Tafheem-ul-Quran - 17 : 62