تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 71
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا﴿71﴾
- يَوْمَجس دن
- نَدْعُوْاہم بلائیں گے
- كُلَّ اُنَاسٍتمام لوگ
- بِاِمَامِهِمْان کے پیشواؤں کے ساتھ
- فَمَنْپس جو
- اُوْتِيَدیا گیا
- كِتٰبَهٗاسکی کتاب
- بِيَمِيْنِهٖاس کے دائیں ہاتھ میں
- فَاُولٰٓئِكَتو وہ لوگ
- يَقْرَءُوْنَپڑھیں گے
- كِتٰبَهُمْاپنا اعمالنامہ
- وَلَا يُظْلَمُوْنَاور نہ وہ ظلم کیے جائیں گے
- فَتِيْلًاایک دھاگے کے برابر
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہٴ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے86 اور ان پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 86
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے، بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ رہے بداعمال لوگ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ملاحظہ ہو سورة الحاقہ آیت 19۔ 28۔ اور سورة انشقاق آیت 7۔ 13