تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 70
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ع﴿70﴾
- وَلَقَدْاور تحقیق
- كَرَّمْنَاہم نے عزت بخشی
- بَنِيْٓ اٰدَمَاولاد آدم
- وَحَمَلْنٰهُمْاور ہم نے انہیں سواری دی
- فِي الْبَرِّخشی میں
- وَالْبَحْرِاور دریا
- وَرَزَقْنٰهُمْاور ہم نے انہیں رزق دیا
- مِّنَسے
- الطَّيِّبٰتِپاکیزہ چیزیں
- وَفَضَّلْنٰهُمْاور ہم نے اہنیں فضیلت دی
- عَلٰيپر
- كَثِيْرٍبہت سی
- مِّمَّنْ خَلَقْنَااس سے جو ہم نے پیدا کیا (اپنی مخلوق)
- تَفْضِيْلًابڑائی دیکر
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیااور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔ 85
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 85
یعنی یہ ایک بالکل کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ نوع انسانی کو زمین اور اس کی اشیاء پر یہ اقتدار کسی جن یا فرشتے یا سیارے نے نہیں عطا کیا ہے، نہ کسی ولی یا نبی نے اپنی نوع کو یہ اقتدار دلوایا ہے۔ یقینا یہ اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور جہالت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اس مرتبے پر فائز ہو کر اللہ کے بجائے اس کی مخلوق کے آگے جھکے۔