Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 75

  1. اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا﴿75﴾

    1. اِذًااس صورت میں
    2. لَّاَذَقْنٰكَہم تمہیں چکھاتے
    3. ضِعْفَدوگنی
    4. الْحَيٰوةِزندگی
    5. وَضِعْفَاور دوگنی
    6. الْمَمَاتِموت
    7. ثُمَّپھر
    8. لَا تَجِدُتم نہ پاتے
    9. لَكَاپنے لیے
    10. عَلَيْنَاہم پر (ہمارے مقابلہ میں)
    11. نَصِيْرًاکوئی مددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دُنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزّہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارےمقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے۔88
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 88 اللہ تعالیٰ اس ساری روداد پر تبصرہ کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرماتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر تم حق کو حق جان لینے کے بعد باطل سے کوئی سمجھوتہ کرلیتے تو یہ بگڑی ہوئی قوم تو ضرور تم سے خوش ہوجاتی، مگر خدا کا غضب تم پر بھڑک اٹھتا اور تمہیں دنیا و آخرت، دونوں میں دہری سزا دی جاتی۔ دوسرے یہ کہ انسان خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، خود اپنے بل بوتے پر باطل کے ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو۔ یہ سراسر اللہ کا بخشا ہوا صبر ثبات تھا جس کی بدولت نبی ﷺ حق و صداقت کے مؤقف پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور کوئی سیلاب بلا آپ کو بال برابر بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکا۔