تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 77
سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ع﴿77﴾
- سُنَّةَسنت
- مَنْجو
- قَدْ اَرْسَلْنَاہم نے بھیجا
- قَبْلَكَآپ سے پہلے
- مِنْسے
- رُّسُلِنَااپنے رسول (جمع)
- وَلَا تَجِدُاور تم نہ پاؤگے
- لِسُنَّتِنَاہماری سنت میں
- تَحْوِيْلًاکوئی تبدیلی
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہ ہمارا مستقل طریقِ کار ہے جو اُن سب رسُولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا90 تھا،اور ہمارے طریقِ کار میں تم کوئی تغیّر نہ پاوٴگے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 90
یعنی سارے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ جس قوم نے ان کو قتل یا جلا وطن کیا، پھر وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ نہ ٹھیر سکی۔ پھر یا تو خدا کے عذاب نے اسے ہلاک کیا، یا کسی دشمن قوم کو اس پر مسلط کیا گیا، یا خود اسی نبی کے پیروؤں سے اس کو مغلوب کرا دیا گیا۔