Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 87

  1. اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا﴿87﴾

    1. اِلَّامگر
    2. رَحْمَةًرحمت
    3. مِّنْ رَّبِّكَتمہارے رب سے
    4. اِنَّبیشک
    5. فَضْلَهٗاس کا فضل
    6. كَانَہے
    7. عَلَيْكَتم پر
    8. كَبِيْرًابڑا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے ربّ کی رحمت سے مِلا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔104
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 104 خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر مقصود دراصل کفار کو سنانا ہے جو قرآن کو نبی ﷺ کو اپنا گھڑا ہوا یا کسی انسان کا درپردہ سکھایا ہوا کلام کہتے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کلام پیغمبر نے نہیں گھڑا بلکہ ہم نے عطا کیا ہے اور اگر ہم اسے چھین لیں تو نہ پیغمبر کی یہ طاقت ہے کہ وہ ایسا کلام تصنیف کر کے لا سکے اور نہ کوئی دوسری طاقت ایسی ہے جو اس کو ایسی معجزانہ کتاب پیش کرنے کے قابل بنا سکے۔