تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 94
وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا﴿94﴾
- وَمَااور نہیں
- مَنَعَروکا
- النَّاسَلوگ (جمع)
- اَنْ يُّؤْمِنُوْٓاکہ وہ ایمان لائیں
- اِذْجب
- جَآءَهُمُان کے پاس آگئی
- الْهُدٰٓىہدایت
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ کہ
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اَبَعَثَکیا بھیجا
- اللّٰهُاللہ
- بَشَرًاایک بشر
- رَّسُوْلًارسول
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ”کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟“107
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 107
یعنی ہر زمانے کے جاہل لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ بشر کبھی پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے جب کوئی رسول آیا تو انہوں نے یہ دیکھ کر کہ کھاتا ہے، پیتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا ہے، فیصلہ کردیا کہ پیغمبر نہیں ہے، کیونکہ بشر ہے۔ اور جب وہ گزر گیا تو ایک مدت کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہوگئے جو کہنے لگے کہ وہ بشر نہیں تھا، کیونکہ پیغمبر تھا۔ چناچہ کسی نے اس کو خدا بنایا، کسی نے اسے خدا کا بیٹا کہا، اور کسی نے کہا کہ خدا اس میں حلول کر گیا تھا۔ غرض بشریت اور پیغمبری کا ایک ذات میں جمع ہونا جاہلوں کے لیے ہمیشہ ایک معما ہی بنا رہا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة یس، حاشیہ 11)۔