Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 93

  1. اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ع﴿93﴾

    1. اَوْیا
    2. يَكُوْنَہو
    3. لَكَتیرے لیے
    4. بَيْتٌایک گھر
    5. مِّنْسے۔ کا
    6. زُخْرُفٍسونا
    7. اَوْیا
    8. تَرْقٰىتو چڑھ جائے
    9. فِي السَّمَآءِآسمانوں میں
    10. وَلَنْ نُّؤْمِنَاور ہم ہرگز نہ مانیں گے
    11. لِرُقِيِّكَتیرے چڑھنے کو
    12. حَتّٰىیہانتک کہ
    13. تُنَزِّلَتو اتارے
    14. عَلَيْنَاہم پر
    15. كِتٰبًاایک کتاب
    16. نَّقْرَؤُهٗہم پڑھ لیں جسے
    17. قُلْآپ کہ دیں
    18. سُبْحَانَپاک ہے
    19. رَبِّيْمیرا رب
    20. هَلْ كُنْتُنہیں ہوں میں
    21. اِلَّامگر۔ صرف
    22. بَشَرًاایک بشر
    23. رَّسُوْلًارسول
Translation · Tafheem-ul-Quran
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے۔ یا تُو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اُوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں“۔۔۔۔اے محمد ؐ ، اِن سے کہو”پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟“106
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 106 معجزات کے مطالبے کا ایک جواب اس سے پہلے آیت 59 " وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا " میں گزر چکا ہے۔ اب یہاں اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے۔ اس مختصر سے جواب کی بلاغت تعریف سے بالاتر ہے۔ مخالفین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے، یا فورا ایک لہلہاتا باغ پیدا ہوجائے اور اس میں نہریں جاریں ہوجائیں۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارے جھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے۔ ایک پھونک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور اس کے فرشتے فورا آ کھڑے ہوں اور وہ شہادت دیں کہ ہم ہی نے محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جاؤ اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لاؤ جسے ہم ہاتھ سے چھوئیں اور آنکھوں سے پڑھیں۔۔ ان لمبے چوڑے مطالبوں کا بس یہ جواب دے کر چھوڑ دیا گیا کہ " ان سے کہو، پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں "؟ یعنی بیوقوفوں ! کیا میں نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا کہ تم یہ مطالبے مجھ سے کرنے لگے ؟ میں نے تم سے کب کہا تھا کہ میں قادر مطلق ہوں ؟ میں نے کب کہا تھا کہ زمین و آسمان پر میری حکومت چل رہی ہے ؟ میرا دعوی تو اول روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ایک انسان ہوں۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو۔ ایمان لانا ہے تو اس پیغام کی صداقت و معقولیت دیکھ کر ایمان لاؤ۔ انکار کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھاؤ۔ میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو، میرے اخلاق کو، میرے کام کو دیکھو۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ کیا مطالبہ کرنے لگے کہ زمین پھاڑو اور آسمان گراؤ ؟ آخر پیغمبری کا ان کاموں سے کیا تعلق ہے ؟