Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 51

Tafseer
  1. مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا﴿51﴾

    1. مَآنہیں
    2. اَشْهَدْتُّهُمْحاضر کیا میں نے انہیں
    3. خَلْقَپیدا کرنا
    4. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    5. وَالْاَرْضِاور زمین
    6. وَلَا خَلْقَنہ پیدا کرنا
    7. اَنْفُسِهِمْان کی جانیں (خود وہ)
    8. وَمَا كُنْتُاور میں نہیں
    9. مُتَّخِذَبنانے والا
    10. الْمُضِلِّيْنَگمراہ کرنے والے
    11. عَضُدًابازو
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بُلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ 49 میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 49 مطلب یہ ہے کہ یہ شیاطین آخر تمہاری طاعت و بندگی کے مستحق کیسے بن گئے ؟ بندگی کا مستحق تو صرف خالق ہی ہوسکتا ہے۔ اور ان شیاطین کا حال یہ ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، یہ تو خود مخلوق ہیں۔
Tafheem-ul-Quran - 18 : 51