Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 56

Tafseer
  1. وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا﴿56﴾

    1. وَمَا نُرْسِلُاور ہم نہیں بھیجتے
    2. الْمُرْسَلِيْنَرسول (جمع)
    3. اِلَّا مُبَشِّرِيْنَمگر خوشخبری دینے والے
    4. وَمُنْذِرِيْنَاور ڈر سنانے والے
    5. وَيُجَادِلُاور جھگڑا کرتے ہیں
    6. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    7. بِالْبَاطِلِناحق (کی باتوں) سے
    8. لِيُدْحِضُوْاتاکہ وہ پھسلا دیں
    9. بِهِاس سے
    10. الْحَقَّحق
    11. وَاتَّخَذُوْٓااور انہوں نے بنایا
    12. اٰيٰتِيْمیری آیات
    13. وَمَآاور جو۔ جس
    14. اُنْذِرُوْاوہ ڈرائے گئے
    15. هُزُوًامذاق
Translation · Tafheem-ul-Quran
رسُولوں کو ہم اس کا م کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دیں گے۔ 53 مگر کافروں کا حال یہ ہےکہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُنہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 53 اس آیت کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں چسپاں ہوتے ہیں ایک یہ کہ رسولوں کو ہم اسی لیے بھیجتے ہیں کہ فیصلے کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو فرماں برداری کے اچھے اور نافرمانی کے برے انجام سے خبردار کریں۔ مگر یہ بیوقوف لوگ ان پیشگی تنبیہات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اسی انجام بد کو دیکھنے پر مصر ہیں جس سے رسول انہیں بچانا چاہتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو عذاب ہی دیکھنا منظور ہے تو پیغمبر سے اس کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ پیغمبر عذاب دینے کے لیے نہیں بلکہ عذاب سے پہلے صرف خبردار کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔