Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 55

Tafseer
  1. وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا﴿55﴾

    1. وَمَا مَنَعَاور نہیں روکا
    2. النَّاسَلوگ
    3. اَنْ يُّؤْمِنُوْٓاکہ وہ ایمان لائیں
    4. اِذْ جَآءَهُمُجب آگئی ان کے پاس
    5. الْهُدٰىہدایت
    6. وَيَسْتَغْفِرُوْااور وہ بخشش مانگیں
    7. رَبَّهُمْاپنا رب
    8. اِلَّآبجز
    9. اَنْیہ کہ
    10. تَاْتِيَهُمْان کے پاس آئے
    11. سُنَّةُروش (معاملہ)
    12. الْاَوَّلِيْنَپہلوں کی
    13. اَوْیا
    14. يَاْتِيَهُمُآئے ان کے پاس
    15. الْعَذَابُعذاب
    16. قُبُلًاسامنے کا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے ربّ کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا ؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کےساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! 52
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 52 یعنی جہاں تک دلیل و حجت کا تعلق ہے، قرآن نے حق واضح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔ دل اور دماغ کو اپیل کرنے کے جتنے مؤثر طریقے اختیار کرنے ممکن تھے، وہ سب بہترین انداز میں یہاں اختیار کیے جا چکے ہیں۔ اب وہ کیا چیز ہے جو انہیں قبول حق میں مانع ہو رہی ہے ؟ صرف یہ کہ انہیں عذاب کا انتظار ہے۔ جوتے کھائے بغیر سیدھے نہیں ہونا چاہتے۔