Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 58

Tafseer
  1. وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا﴿58﴾

    1. وَرَبُّكَاور تمہارا رب
    2. الْغَفُوْرُبخشنے والا
    3. ذُو الرَّحْمَةِرحمت والا
    4. لَوْاگر
    5. يُؤَاخِذُهُمْان کا مواخذہ کرے
    6. بِمَا كَسَبُوْااس پر جو انہوں نے کیا
    7. لَعَجَّلَتو وہ جلد بھیجدے
    8. لَهُمُان کے لیے
    9. الْعَذَابَعذاب
    10. بَلْبلکہ
    11. لَّهُمْان کے لیے
    12. مَّوْعِدٌایک وقت مقرر
    13. لَّنْ يَّجِدُوْاوہ ہرگز نہ پائیں گے
    14. مِنْ دُوْنِهٖاس سے ورے
    15. مَوْئِلًاپناہ کی جگہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
تیرا ربّ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتُوتوں پر انھیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ 55
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 55 یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت کسی سے قصور سرزد ہو اسی وقت پکڑ کر اسے سزا دے ڈالے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ مجرموں کے پکڑنے میں وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور مدتوں ان کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے۔ مگر سخت نادان ہیں وہ لوگ جو اس ڈھیل کو غلط معنی میں لیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ خواہ کچھ ہی کرتے رہیں، ان سے کبھی باز پرس ہوگی ہی نہیں۔