Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 19. Maryam · Ayah 17

  1. فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾

    1. فَاتَّخَذَتْپھر ڈال لیا
    2. مِنْسے
    3. دُوْنِهِمْان کی طرف
    4. حِجَابًاپردہ
    5. فَاَرْسَلْنَآپھر ہم نے بھیجا
    6. اِلَيْهَااس کی طرف
    7. رُوْحَنَااپنی روح (فرشتہ)
    8. فَتَمَثَّلَشکل بن گیا
    9. لَهَااس کے لیے
    10. بَشَرًاایک آدمی
    11. سَوِيًّاٹھیک
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور پردہ ڈال کر اُن سے چھُپ بیٹھی تھی۔ 14 اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی رُوح کو (یعنی فرشتے کو)بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مَرْیَم 14 سورة آل عمران میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیت المقدس میں عبادت کے لیئے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المقدس کی ایک محراب میں معتکف ہوگئی تھیں۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المقدس سے شرقی حصے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کرلیا تھا۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکاناً شرقیاً سے مراد لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے، کیونکہ ناصرہ یروشلم کے شمال میں ہے نہ کہ مشرق میں۔