Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 19. Maryam · Ayah 23

Tafseer
  1. فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾

    1. فَاَجَآءَهَاپھر اسے لے آیا
    2. الْمَخَاضُدردِ زہ
    3. اِلٰىطرف
    4. جِذْعِجڑ
    5. النَّخْلَةِکھجور کا درخت
    6. قَالَتْوہ بولی
    7. يٰلَيْتَنِيْاے کاش میں
    8. مِتُّمرچکی ہوتی
    9. قَبْلَ ھٰذَااس سے قبل
    10. وَكُنْتُاور میں ہوجاتی
    11. نَسْيًا مَّنْسِيًّابھولی بسری
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجُور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی”کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“ 17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مَرْیَم 17 ان الفاظ سے اس پریشان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس میں حضرت مریم اس وقت مبتلا تھیں۔ موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی زبان سے یہ الفاظ دردزہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے، بلکہ یہ فکر ان کو کھائے جا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے اس سے کس طرح بخیریت عہدہ برآ ہوں۔ حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔ اب اس بچے کو کہاں لے جائیں۔ بعد کا یہ فقرہ فرشتے نے ان سے کہا " غم نہ کر " اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ حضرت مریم نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو چاہے تکلیف سے کتنی ہی تڑپے، اسے رنج و غم کبھی لاحق نہیں ہوا کرتا۔