Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 19. Maryam · Ayah 57

Tafseer
  1. وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾

    1. وَّرَفَعْنٰهُاور ہم نے اسے اٹھا لیا
    2. مَكَانًاایک مقام
    3. عَلِيًّابلند
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اُسے ہم نے بلند مقام پر اُٹھایا تھا۔ 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مَرْیَم 34 اس کا سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو بلند مرتبہ عطا کیا تھا، لیکن اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر یہ بات ہمارے ہاں بھی مشہور ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس کو آسمان پر اٹھا لیا۔ بائیبل میں تو صرف اسی قدر ہے کہ وہ غائب ہوگئے کیونکہ خدا نے ان کو اٹھا لیا " مگر تلمود میں اس کا ایک طویل قصہ بیان ہوا ہے جس کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ "۔ حنوک ایک بگولے میں آتش رتھ اور گھوڑوں سمیت آسمان پر چڑھ گئے۔ "
Tafheem-ul-Quran - 19 : 57