Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 199

Tafseer
  1. ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿199﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. اَفِيْضُوْاتم لوٹو
    3. مِنْ حَيْثُسے۔ جہاں
    4. اَفَاضَلوٹیں
    5. النَّاسُلوگ
    6. وَاسْتَغْفِرُوااور مغفرت چاہو
    7. اللّٰهَاللہ
    8. اِنَّبیشک
    9. اللّٰهَاللہ
    10. غَفُوْرٌبخشنے والا
    11. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،220 یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 220 “ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے زمانے سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منیٰ سے عَرَفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مُزْدلفہ میں ٹھیرتے تھے۔ مگر بعد کے زمانے میں جب رفتہ رفتہ قریش کی برہمنیت قائم ہوگئی، تو انہوں نے کہا ہم اہل حرم ہیں، ہمارے مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جائیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے لیے یہ شان امتیاز قائم کی کہ مزدلفہ تک جا کر ہی پلٹ آتے اور عام لوگوں کو عرفات تک جانے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ پھر یہی امتیاز بنی خزاعہ اور بنی کنانہ اور ان دوسرے قبیلوں کو بھی حاصل ہوگیا، جن کے ساتھ قریش کے شادی بیاہ کے رشتے تھے۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو قبیلے قریش کے حلیف تھے، ان کی شان بھی عام عربوں سے اونچی ہوگئی اور انہوں نے بھی عرفات جانا چھوڑ دیا۔ اسی فخر و غرور کا بت اس آیت میں توڑا گیا ہے۔ آیت کا خطاب خاص قریش اور ان کے رشتے دار اور حلیف قبائل کی طرف ہے اور خطاب عام ان سب کی طرف ہے، جو آئندہ کبھی اس قسم کے امتیازات اپنے لیے مخصوص کرنا چاہیں۔ ان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اور سب لوگ جہاں تک جاتے ہیں، انہیں کے ساتھ جاؤ، انہیں کے ساتھ ٹھیرو، انہیں کے ساتھ پلٹو، اور اب تک جاہلیت کے فخر و غرور کی بنا پر سنت ابراہیمی کی جو خلاف ورزی تم کرتے رہے ہو، اس پر اللہ سے معافی مانگو۔
Tafheem-ul-Quran - 2 : 199