Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 200

Tafseer
  1. فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴿200﴾

    1. فَاِذَاپھر جب
    2. قَضَيْتُمْتم ادا کرچکو
    3. مَّنَاسِكَكُمْحج کے مراسم
    4. فَاذْكُرُواتو یاد کرو
    5. اللّٰهَاللہ
    6. كَذِكْرِكُمْجیسی تمہاری یاد
    7. اٰبَآءَكُمْاپنے باپ دادا
    8. اَوْیا
    9. اَشَدَّزیادہ
    10. ذِكْرًایاد
    11. فَمِنَ النَّاسِپس۔ سے۔ آدمی
    12. مَنْجو
    13. يَّقُوْلُکہتا ہے
    14. رَبَّنَآاے ہمارے رب
    15. اٰتِنَاہمیں دے
    16. فِيمیں
    17. اَلدُّنْیَادنیا
    18. وَمَااور نہیں
    19. لَهٗاس کے لیے
    20. فِيمیں
    21. الْاٰخِرَةِآخرت
    22. مِنْ خَلَاقٍکچھ حصہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا واجداد کا ذکر کرتے تھے ، اُسی طرح اب اللہ کا ذکر و، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔221 (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 221 اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے۔