Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 211

Tafseer
  1. سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿211﴾

    1. سَلْپوچھو
    2. بَنِىْٓ اِسْرَآءِ يْلَبنی اسرائیل
    3. كَمْکس قدر
    4. اٰتَيْنٰھُمْہم نے انہیں دیں
    5. مِّنْسے
    6. اٰيَةٍنشانیاں
    7. بَيِّنَةٍکھلی
    8. وَاور
    9. مَنْجو
    10. يُّبَدِّلْبدل ڈالے
    11. نِعْمَةَنعمت
    12. اللّٰهِاللہ
    13. مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    14. مَاجو
    15. جَآءَتْهُآئی اس کے پاس
    16. فَاِنَّتو بیشک
    17. اللّٰهَاللہ
    18. شَدِيْدُسخت
    19. الْعِقَابِعذاب
Translation · Tafheem-ul-Quran
بنی اسرئیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انھیں دکھائی ہیں(اور پھر یہ بھی ان ہی سے پوچھ لو کہ )اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔229
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 229 اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کا انتخاب دو وجوہ سے کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ آثار قدیمہ کے بےزبان کھنڈروں کی بہ نسبت ایک جیتی جاگتی قوم زیادہ بہتر سامان عبرت و بصیرت ہے۔ دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل وہ قوم ہے، جس کو کتاب اور نبوت کی مشعل دے کر دنیا کی رہنمائی کے منصب پر مامور کیا گیا تھا، اور پھر اس نے دنیا پرستی، نفاق اور علم و عمل کی ضلالتوں میں مبتلا ہو کر اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ لہٰذا جو گروہ اس قوم کے بعد امامت کے منصب پر مامور ہوا ہے، اس کو سب سے بہتر سبق اگر کسی کے انجام سے مل سکتا ہے، تو وہ یہی قوم ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 2 : 211