تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 223
Tafseerنِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿223﴾
- نِسَآؤُكُمْعورتیں تمہاری
- حَرْثٌکھیتی
- لَّكُمْتمہاری
- فَاْتُوْاسو تم آؤ
- حَرْثَكُمْاپنی کھیتی
- اَنّٰىجہاں سے
- شِئْتُمْتم چاہو
- وَقَدِّمُوْااور آگے بھیجو
- لِاَنْفُسِكُمْاپنے لیے
- وَاتَّقُوااور دوڑو
- اللّٰهَاللہ
- وَاعْلَمُوْٓااور تم جان لو
- اَنَّكُمْکہ تم
- مُّلٰقُوْهُملنے والے اس سے
- وَبَشِّرِاور خوشخبری دیں
- الْمُؤْمِنِيْنَایمان والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ241، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو242 اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبیؐ ! جو تمہاری ہدایت کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا مژدہ سنادو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 241
یعنی فطرۃ اللہ نے عورتوں کو مردوں کے لیے سیرگاہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کھیت اور کسان کا سا تعلق ہے۔ کھیت میں کسان محض تفریح کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ اس سے پیداوار حاصل کرے۔ نسل انسانی کے کسان کو بھی انسانیت کی کھیتی میں اس لیے جانا چاہیے کہ وہ اس سے نسل کی پیداوار حاصل کرے۔ خدا کی شریعت کو اس سے بحث نہیں کہ تم اس کھیت میں کاشت کس طرح کرتے ہو، البتہ اس کا مطالبہ تم سے یہ ہے کہ جاؤ کھیت ہی میں، اور اس غرض کے لیے جاؤ کہ اس سے پیداوار حاصل کرنی ہے۔
سورة الْبَقَرَة 242
جامع الفاظ ہیں، جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ اپنی نسل برقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں۔ دوسرے یہ کہ جس آنے والی نسل کو تم اپنی جگہ چھوڑنے والے ہو، اس کو دین، اخلاق اور آدمیت کے جوہروں سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو۔ بعد کے فقرے میں اس بات پر بھی تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر ان دونوں فرائض کے ادا کرنے میں تم نے قصداً کوتاہی کی، تو اللہ تم سے باز پرس کرے گا۔