تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 277
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿277﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
- الصّٰلِحٰتِنیک
- وَاَقَامُوااور انہوں نے قائم کی
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاٰتَوُااور ادا کی
- الزَّكٰوةَزکوۃ
- لَھُمْان کے لیے
- اَجْرُھُمْان کا اجر
- عِنْدَپاس
- رَبِّهِمْان کا رب
- وَلَااور نہ
- خَوْفٌکوئی خوف
- عَلَيْهِمْان پر
- وَلَااور نہ
- ھُمْوہ
- يَحْزَنُوْنَغمگین ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ 322
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 322
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے۔ ایک کردار خود غرض، زر پرست، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے، جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بےپروا ہو کر روپیہ گننے اور گن گن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو۔ دوسرا کردار ایک خدا پرست، فیاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے، جو خدا اور خلق خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، اپنی قوت بازو سے کما کر خود کھائے اور دوسرے بندگان خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت ناپسند ہے۔ دنیا میں اس کردار پر کوئی صالح سوسائیٹی نہیں بن سکتی، اور آخرت میں ایسے کردار کے لیے غم واندوہ اور کلفت و مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اللہ کو دوسری قسم کا کردار پسند ہے، اسی سے دنیا میں صالح سوسائیٹی بنتی ہے اور وہی آخرت میں انسان کے لیے موجب فلاح ہے۔