Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 105

  1. وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ﴿105﴾

    1. وَيَسْئَلُوْنَكَاور وہ آپ سے دریافت کرینگے
    2. عَنِ الْجِبَالِپہاڑ کے متعلق
    3. فَقُلْتو کہ دیں
    4. يَنْسِفُهَاانہیں بکھیر دیگا
    5. رَبِّيْمیرا رب
    6. نَسْفًااڑا کر
Translation · Tafheem-ul-Quran
82 یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا ربّ ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 82 یہ بھی جملۂ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں کسی سامع کے سوال پر ارشاد ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ سورت ایک الہامی تقریر کے انداز میں سنائی جا رہی ہوگی اس وقت کسی نے مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال اٹھایا ہوگا کہ قیامت کا جو نقشہ آپ کھینچ رہے ہیں اس سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ کسی ہموار میدان میں بھاگے چلے جا رہے ہوں گے۔ آخر یہ بڑے بڑے پہاڑ اس وقت کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سوال کا موقع سمجھنے کے لیے اس ماحول کو نگاہ میں رکھیے جس میں یہ تقریر کی جا رہی تھی۔ مکہ جس مقام پر واقع ہے اس کی حالت ایک حوض کی سی ہے جس کے چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ سائل نے انہی پہاڑوں کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ہوگی۔ اور وحی کے اشارہ سے جواب برملا اسی وقت یہ دے دیا گیا کہ یہ پہاڑ کوٹ پیٹ کر اس طرح ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے جیسے ریت کے ذرے، اور ان کو دھول کی طرح اڑا کر ساری زمین ایک ایسی ہموار میدان بنادی جائے گی کہ اس میں کوئی اونچ نیچ نہ رہے گی، کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا، اس کی حالت ایک ایسے صاف فرش کی سی ہوگی جس میں ذرا سا بل اور کوئی معمولی سی سلوٹ تک نہ ہو۔