Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 126

  1. قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى﴿126﴾

    1. قَالَوہ فرمائے گا
    2. كَذٰلِكَاسی طرح
    3. اَتَتْكَتیرے پاس آئیں
    4. اٰيٰتُنَاہماری آیات
    5. فَنَسِيْتَهَاتو تونے انہیں بھلایا
    6. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    7. الْيَوْمَآج
    8. تُنْسٰىہم تجھے بھلا دیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔“ 107
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 107 قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہے لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ، " تو اس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ " یعنی تجھے خوب نظر آ رہا ہے۔ (ق۔ آیت 22)۔ دوسری کیفیت یہ ہے اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُؤسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَتُھُمْ ھَوَ آء، " اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل ہیں کہ اڑے جاتے ہیں " (ابراہیم۔ آیت 43)۔ تیسری کیفیت یہ ہے وَنُخْرِجُ لَہ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتَاباً یَّلْقٰہُ مَنْشُوْراً ہ اِقْرأ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْباً ہ " اور قیامت کے روز ہم اس کے لیے ایک نوشتہ نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب پائے گا۔ پڑھ اپنا نامۂ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے " (بنی اسرائیل۔ آیات 13۔ 14)۔ انہی کیفیات میں سے ایک یہ بھی ہے جو آیت زیر بحث میں بیان ہوئی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت سے یہ لوگ آخرت کے ہولناک مناظر اور اپنی شامت اعمال کے نتائج کو تو خوب دیکھیں گے، لیکن بس ان کی بینائی یہی کچھ دیکھنے کے لیے ہوگی۔ باقی دوسری حیثیتوں سے انکا حال اندھے کا سا ہوگا جسے اپنا راستہ نظر نہ آتا ہو، جو نہ لاٹھی رکھتا ہو کہ ٹٹول کر چل سکے نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کے چلانے والا ہو، قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہا ہو، اور اس کو کچھ نہ سوجھتا ہو کہ کدھر جائے اور اپنی ضروریات کہاں سے پوری کرے۔ اسی کیفیت کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے کہ " جس طرح تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے " یعنی آج کوئی پروا نہ کی جائے گی کہ تو کہاں کہاں ٹھوکریں کھا کر گرتا ہے اور کیسی کیسی محرومیاں برداشت کر رہا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہ پکڑے گا، کوئی تیری حاجتیں پوری نہ کرے گا، اور تیری کچھ بھی خبر گیری نہ کی جائے گی۔