تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 14
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ﴿14﴾
- اِنَّنِيْٓبیشک میں
- اَنَامیں
- اللّٰهُاللہ
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
- اِلَّآ اَنَامیرے سوا
- فَاعْبُدْنِيْپس میری عبادت کرو
- وَاَ قِمِاور قائم کرو
- الصَّلٰوةَنماز
- لِذِكْرِيْمیری یاد کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 9
یہاں نماز کی اصلی غرض پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آدمی خدا سے غافل نہ ہوجائے، دنیا کے دھوکا دینے والے مظاہر اس کو اس حقیقت سے بےفکر نہ کردیں کہ میں کسی کا بندہ ہوں، آزاد خود مختار نہیں ہوں۔ اس فکر کو تازہ رکھنے اور خدا سے آدمی کا تعلق جوڑے رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے جو ہر روز کئی بار آدمی کو دنیا کے ہنگاموں سے ہٹا کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔
بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ نماز قائم کر تاکہ میں تجھے یاد کروں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ۔ ، " مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ "
ضمناً اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس شخص کو بھول لاحق ہوجائے اسے جب بھی یاد آئے نماز ادا کر لینی چاہیے۔ حدیث میں حضرت اَنَس سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا من نسی صلاۃ فلیصَلّھا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذٰلک، " جو شخص کسی وقت کی نماز بھول گیا ہو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے ادا کرلے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے " (بخاری، مسلم، احمد)۔ اسی معنی میں ایک روایت حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے جسے مسلم، ابو داؤد اور نسائی وغیرہ نے لیا ہے۔ اور ابوقتادہ کی روایت ہے کہ حضور سے پوچھا گیا اگر ہم نماز کے وقت سو گئے ہوں تو کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا " نیند میں کچھ قصور نہیں، قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے یا سو جائے تو جب بیدار ہو یا جب یاد آئے، نماز پڑھ لے " (ترمذی، نسائی، ابو داؤد)۔