تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 53
Tafseerالَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى﴿53﴾
- الَّذِيْوہ جس نے
- جَعَلَبنایا
- لَكُمُتمہارے لیے
- الْاَرْضَزمین
- مَهْدًابچھونا
- وَّسَلَكَاور چلائیں
- لَكُمْتمہارے لیے
- فِيْهَااس میں
- سُبُلًاراہیں
- وَّ اَنْزَلَاور اتارا
- مِنَسے
- السَّمَآءِآسمان
- مَآءًپانی
- فَاَخْرَجْنَاپھر ہم نے نکالے
- بِهٖٓاس سے
- اَزْوَاجًاجوڑے (اقسام)
- مِّنْسے
- نَّبَاتٍسبزی
- شَتّٰىمختلف
Translation · Tafheem-ul-Quran
26 وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستےبنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 26
انداز کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا جواب " نہ بھولتا ہے " پر ختم ہوگیا، اور یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور شرح و تذکیر ارشاد ہوئی ہے۔ قرآن میں اس طرح کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ کسی گزرے ہوئے یا آئندہ پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتے ہوئے جب کسی شخص کا کوئی قول نقل کیا جاتا ہے، تو اس کے بعد متصلاً چند فقرے وعظ و بند، یا شرح و تفسیر، یا تفصیل و توضیح کے طور پر مزید ارشاد فرمائے جاتے ہیں اور صرف انداز کلام سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ اس شخص کا قول نہیں ہے جس کا پہلے ذکر ہو رہا تھا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے۔
واضح رہے کہ اس عبارت کا تعلق صرف قریب کے فقرے " میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے " سے ہی نہیں ہے بلکہ حضرت موسیٰ کے پورے کلام سے ہے جو رَبُّنَا الَّذِئٓ اَعْطٰی کُلَّ شَئءٍ سے شروع ہوا ہے۔