Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 59

Tafseer
  1. قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى﴿59﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. مَوْعِدُكُمْتمہارا وعدہ
    3. يَوْمُ الزِّيْنَةِزینت (میلے) کا دن
    4. وَاَنْاور یہ کہ
    5. يُّحْشَرَجمع کیے جائیں
    6. النَّاسُلوگ
    7. ضُحًيدن چڑھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے کہا”جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔“ 31
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 31 فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک دفعہ جادوگروں سے لاٹھیوں اور رسیوں کا سانپ بنوا کر دکھا دوں تو موسیٰ ؑ کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہوجائے گا۔ یہ حضرت موسیٰ کی منہ مانگی مراد تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ الگ کوئی دن اور جگہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ جشن کا دن قریب ہے، جس میں تمام ملک کے لوگ دار السلطنت میں کھنچ کر آجاتے ہیں۔ وہیں میلے کے میدان میں مقابلہ ہوجائے تاکہ ساری قوم دیکھ لے۔ اور وقت بھی دن کی پوری روشنی کا ہونا چاہیے تاکہ شک و شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے۔