Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 66

Tafseer
  1. قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى﴿66﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. بَلْبلکہ
    3. اَلْقُوْاتم ڈالو
    4. فَاِذَاتو ناگہاں
    5. حِبَالُهُمْان کی رسیاں
    6. وَعِصِيُّهُمْاور ان کی لاٹھیاں
    7. يُخَيَّلُخیال میں آئیں
    8. اِلَيْهِاس کے
    9. مِنْسے
    10. سِحْرِهِمْان کا جادو
    11. اَنَّهَاکہ وہ
    12. تَسْعٰيدوڑ رہی ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے کہا”نہیں، تم ہی پھینکو۔“یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں، 40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 40 سورۂ اعراف میں بیان ہوا تھا کہ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُؤٓا اَعَیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ ، " جب انہوں نے اپنے انچھر پھینکے تو لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کردیا اور انہیں دہشت زدہ کردیا " (آیت 116)۔ یہاں بتایا جا رہا ہے کہ یہ اثر صرف عام لوگوں پر ہی نہیں ہوا تھا، خود حضرت موسیٰ بھی سحر کے اثر سے متاثر ہوگئے تھے۔ ان کی صرف آنکھوں ہی نے یہ محسوس نہیں کیا بلکہ ان کے خیال پر بھی یہ اثر پڑا کہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں۔