تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 69
Tafseerوَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى﴿69﴾
- وَاَلْقِاور ڈالو
- مَاجو
- فِيْ يَمِيْنِكَتمہارے دائیں ہاتھ میں
- تَلْقَفْوہ نگل جائے گا
- مَا صَنَعُوْاجو انہوں نے بنایا
- اِنَّمَابیشک
- صَنَعُوْاانہوں نے بنایا
- كَيْدُفریب
- سٰحِرٍجادوگر
- وَلَا يُفْلِحُاور کامیاب نہیں ہوگا
- السَّاحِرُجادوگر
- حَيْثُجہاں (کہیں)
- اَتٰىوہ آئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نِگلے جاتا ہے۔ 42 یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے، اور جادُوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 42
ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا وہ ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے ان سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس جادو کے اثر کو باطل کردیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ سورة اعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا یَاْفِکُوْنَ ، " جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا "۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا، " وہ نگل جائے گا اس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے " اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا جھوٹ اور ان کی بناوٹ لاٹھیاں اور رسیاں نہ تھیں بلکہ وہ جادو تھا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ جدھر جدھر وہ گیا لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل کر اس طرح پیچھے پھینکتا چلا گیا کہ ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر پڑی رہ گئی۔