Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 70

Tafseer
  1. فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى﴿70﴾

    1. فَاُلْقِيَپس ڈالدئیے گئے
    2. السَّحَرَةُجادوگر
    3. سُجَّدًاسجدہ میں
    4. قَالُوْٓاوہ بولے
    5. اٰمَنَّاہم ایمان لائے
    6. بِرَبِّرب پر
    7. هٰرُوْنَہارون
    8. وَمُوْسٰىاور موسیٰ
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرا دیے گئے 43 اور پُکار اُٹھے”مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے ربّ کو۔“ 44
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 43 یعنی جب انہوں نے عصائے موسیٰ کا کارنامہ دیکھا تو انہیں فوراً یقین آگیا کہ یہ یقیناً معجزہ ہے، ان کے فن کی چیز ہرگز نہیں ہے، اس لیے وہ اس طرح یکبارگی اور بےساختہ سجدے میں گرے جیسے کسی نے اٹھا اٹھا کر ان کو گرا دیا ہو۔ سورة طٰهٰ 44 اس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں سب کو معلوم تھا کہ یہ مقابلہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے۔ پورے مجمع میں کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ تھا کہ مقابلہ موسیٰ اور جادوگروں کے کرتب کا ہو رہا ہے اور فیصلہ اس بات کا ہونا ہے کہ کس کا کرتب زبردست ہے۔ سب یہ جانتے تھے کہ ایک طرف موسیٰ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ ، خالق زمین و آسمان کے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں، اور اپنی پیغمبری کے ثبوت میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا عصا معجزے کے طور پر فی الواقع اژدہا بن جاتا ہے۔ اور دوسری طرف جادوگروں کو برسر عام بلا کر فرعون یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ عصا سے اژدہا بن جانا معجزہ نہیں ہے بلکہ محض جادو کا کرتب ہے۔ بالفاظ دیگر، وہاں فرعون اور جادوگر اور سارے تماشائی عوام و خواص معجزے اور جادو کے فرق سے واقف تھے، اور امتحان اس بات کا ہو رہا تھا کہ موسیٰ جو کچھ دکھا رہے ہیں یہ جادو کی قسم سے ہے یا اس معجزے کی قسم سے جو رب العالمین کی قدرت کے کرشمے کے سوا اور کسی طاقت سے نہیں دکھایا جاسکتا۔ یہ وجہ ہے کہ جادوگروں نے اپنے جادو کو مغلوب ہوتے دیکھ کر یہ نہیں کہا کہ " ہم نے مان لیا، موسیٰ ہم سے زیادہ با کمال ہے "، بلکہ انہیں فوراً یقین آ گیا کہ موسیٰ واقعی اللہ رب العالمین کے سچے پیغمبر ہیں اور وہ پکار اٹھے کہ ہم اس خدا کو مان گئے جس کے پیغمبر کی حیثیت سے موسیٰ اور ہارون آئے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مجمع عام پر اس شکست کے کیا اثرات پڑے ہوں گے، اور پھر پورے ملک پر اس کا کیسا زبردست اثر ہوا ہوگا۔ فرعون نے ملک کے سب سے بڑے مرکزی میلے میں یہ مقابلہ اس امید پر کرایا تھا کہ جب مصر کے ہر گوشے سے آئے ہوئے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ جائیں گے کہ لاٹھی سے سانپ بنادینا موسیٰ کا کوئی نرالا کمال نہیں ہے، ہر جادوگر یہ کرتب دکھا لیتا ہے، تو موسیٰ کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ لیکن اس کی یہ تدبیر اسی پر الٹ پڑی، اور قریہ قریہ سے آئے ہوئے لوگوں کے سامنے خود جادوگروں ہی نے بالاتفاق اس بات کی تصدیق کردی کہ موسیٰ جو کچھ دکھا رہے ہیں یہ انکے فن کی چیز نہیں ہے، یہ فی الواقع معجزہ ہے جو صرف خدا کا پیغمبر ہی دکھا سکتا ہے۔