تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 80
Tafseerیٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى﴿80﴾
- يٰبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَاے بنی اسرائیل
- قَدْتحقیق
- اَنْجَيْنٰكُمْہم نے تمہیں نجات دی
- مِّنْسے
- عَدُوِّكُمْتمہارا دشمن
- وَوٰعَدْنٰكُمْاور ہم نے تم سے وعدہ کیا
- جَانِبَجانب
- الطُّوْرِ الْاَيْمَنَکوہ طور دائیں
- وَنَزَّلْنَااور ہم نے اتارا
- عَلَيْكُمُتم پر
- الْمَنَّمن
- وَالسَّلْوٰىاور سلوی
Translation · Tafheem-ul-Quran
56 اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب 57 تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا 58 اور تم پر من و سلویٰ اُتارا 59۔
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 56
سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات سورة اعراف رکوع 16۔ 17 میں گزر چکی ہیں۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے (تفہیم القرآن۔ جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 98)
سورة طٰهٰ 57
یعنی طور کے مشرقی دامن میں۔
سورة طٰهٰ 58
سورة بقرہ رکوع 6، اور سورة اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا کیے گئے۔
سورة طٰهٰ 59
من وسلویٰ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول البقرہ، حاشیہ 73۔ الاعراف، حاشیہ 118۔ بائیبل کا بیان ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد جب بنی اسرائیل دشت سین میں ایلیم اور سینا کے درمیان گزر رہے تھے اور خوراک کے ذخیرے ختم ہو کر فاقوں کی نوبت آگئی تھی، اس وقت من وسلویٰ کا نزول شروع ہوا، اور فلسطین کے آباد علاقے میں پہنچنے تک پورے چالیس سال یہ سلسلہ جاری رہا (خروج، باب 16۔ گنتی باب 11، آیت 7۔ 9۔ یشوع، باب 5، آیت 12) کتاب خروج میں من وسلویٰ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے
" اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا۔ اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز، ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں، زمین پر پڑی ہے۔ بنی اسرائیل اسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے مَن ؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے " (باب 16۔ آیت 13۔ 15)۔
" اور بنی اسرائیل نے اس کا نام من رکھا اور وہ دھنیے کے بیج کی طرح سفید اور اس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا " (آیت 31)۔
گنتی میں اس کی مزید تشریح یہ ملتی ہے ؟
" لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے چکی میں پیستے یا اوکھلی میں کوٹ لیتے تھے۔ پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے۔ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا تھا۔ اور رات کو جب لشکر گاہ میں اوس پڑتی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا " اب 11۔ آیت 8۔ 9)
یہ بھی ایک معجزہ تھا۔ کیونکہ 40 برس بعد جب بنی اسرائیل کے لیے خوراک کے فطری ذرائع بہم پہنچ گئے تو یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ اب نہ اس علاقے میں بٹیروں کی وہ کثرت ہے، نہ من ہی کہیں پایا جاتا ہے۔ تلاش و جستجو کرنے والوں نے ان علاقوں کو چھان مارا ہے جہاں بائیبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے 40 سال تک دشت نوردی کی تھی۔ من ان کو کہیں نہ ملا۔ البتہ کاروباری لوگ خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لیے من کا حلوا ضرور بیچتے پھرتے ہیں۔