Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 86

  1. فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ﴿86﴾

    1. فَرَجَعَپس لوٹا
    2. مُوْسٰٓىموسیٰ
    3. اِلٰى قَوْمِهٖاپنی قوم
    4. غَضْبَانَغصہ مٰں بھرا ہوا
    5. اَسِفًاافسوس کرتا
    6. قَالَاس نے کہا
    7. يٰقَوْمِاے میری قوم
    8. اَلَمْ يَعِدْكُمْکیا تم سے وعدہ نہیں کیا تھا
    9. رَبُّكُمْتمہارا رب
    10. وَعْدًا حَسَنًااچھا وعدہ
    11. اَفَطَالَکیا طویل ہوگئی
    12. عَلَيْكُمُتم پر
    13. الْعَهْدُمدت
    14. اَمْ اَرَدْتُّمْیا تم نے چاہا
    15. اَنْ يَّحِلَّکہ اترے
    16. عَلَيْكُمْتم پر
    17. غَضَبٌغضب
    18. مِّنْسے۔ کا
    19. رَّبِّكُمْتمہارا رب
    20. فَاَخْلَفْتُمْپھر تم نے خلاف کیا
    21. مَّوْعِدِيْمیرا وعدہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جا کر اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے ربّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ 64 کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ 65 یا تم اپنے ربّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟“ 66
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 64 " اچھا وعدہ نہیں کیا تھا " بھی ترجمہ ہوسکتا ہے۔ متن میں جو ترجمہ ہم نے اختیار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جتنی بھلائیوں کا وعدہ بھی کیا ہے وہ سب تمہیں حاصل ہوتی رہی ہیں۔ تمہیں مصر سے بخیریت نکالا، غلامی سے نجات دی، تمہارے دشمن کو تہس نہس کیا، تمہارے لیے ان صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں سائے اور خوراک کا بندوبست کیا۔ کیا یہ سارے اچھے وعدے پورے نہیں ہوئے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں شریعت اور ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، کیا تمہارے نزدیک وہ کسی خیر اور بھلائی کا وعدہ نہ تھا ؟ سورة طٰهٰ 65 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وعدہ پورا ہونے میں بہت دیر لگ گئی کہ تم بےصبر ہوگئے ؟ " پہلے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم پر اللہ تعالیٰ ابھی ابھی جو عظیم الشان احسانات کرچکا ہے، کیا ان کو کچھ بہت زیادہ مدت گزر گئی ہے کہ تم انہیں بھول گئے ؟ کیا تمہاری مصیبت کا زمانہ بیتے قرنیں گزر چکی ہیں کہ تم سرمست ہو کر بہکنے لگے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب صاف ہے کہ ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کے وفا ہونے میں کوئی تاخیر تو نہیں ہوئی ہے جس کو تم اپنے لیے عذر اور بہانہ بنا سکو۔ سورة طٰهٰ 66 اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو ہر قوم اپنے نبی سے کرتی ہے۔ اس کے اتباع کا وعدہ۔ اس کی دی ہوئی ہدایت پر ثابت قدم رہنے کا وعدہ۔ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنے کا وعدہ۔