تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 87
قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ﴿87﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- مَآ اَخْلَفْنَاہم نے خلاف نہیں کیا
- مَوْعِدَكَتمہارا وعدہ
- بِمَلْكِنَااپنے اختیار سے
- وَلٰكِنَّااور لیکن (بلکہ)
- حُمِّلْنَآہم پر لادا گیا
- اَوْزَارًابوجھ
- مِّنْسے۔ کا
- زِيْنَةِ الْقَوْمِقوم کا زیور
- فَقَذَفْنٰهَاتو ہم نے اسے ڈالدیا
- فَكَذٰلِكَپھر اسی طرح
- اَلْقَيڈالا
- السَّامِرِيُّسامری
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے جواب دیا”ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا“ 67۔۔۔۔ 68 پھر اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 67
یہ ان لوگوں کا عذر تھا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم نے زیورات پھینک دیے تھے۔ نہ ہماری کوئی نیت بچھڑا بنانے کی تھی، نہ ہمیں معلوم تھا کہ کیا بننے والا ہے۔ اس کے بعد جو معاملہ پیش آیا وہ تھا ہی کچھ ایسا کہ اسے دیکھ کر ہم نے اختیار شرک میں مبتلا ہوگئے۔
" لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے "، اس کا سیدھا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کی رسموں کے مطابق جو بھاری زیورات پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے۔ اور ہم پریشان تھے کہ اس بوجھ کو کہاں تک لادے پھریں۔ لیکن بائیبل کا بیان ہے کہ یہ زیورات مصر سے چلتے وقت ہر اسرائیلی گھرانے کی عورتوں اور مردوں نے اپنے مصری پڑوسی سے مانگے کو لے لیے تھے اور اس طرح ہر ایک اپنے پڑوسی کو لوٹ کر راتوں رات " ہجرت " کے لیے چل کھڑا ہوا تھا۔ یہ اخلاقی کارنامہ صرف اسی حد تک نہ تھا کہ ہر اسرائیلی نے بطور خود اسے انجام دیا ہو، بلکہ یہ کار خیر اللہ کے نبی حضرت موسیٰ نے ان کو سکھایا تھا، اور نبی کو بھی اس کی ہدایت خود اللہ میاں نے دی تھی۔ بائیبل کی کتاب خروج میں ارشاد ہوتا ہے
" خدا نے موسیٰ سے کہا .......... جا کر اسرائیلی بزرگوں کو ایک جگہ جمع کر اور ان کو کہہ ....... کہ جب تم نکلو گے تو خالی ہاتھ نہ نکلو گے بلکہ تمہاری ایک ایک عورت اپنی پڑوسن سے اور اپنے اپنے گھر کی مہمان سے سونے چاندی کے زیور اور لباس مانگ لے گی۔ ان کو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناؤ گے اور مصریوں کو لوٹ لو گے "۔ (باب 3۔ آیت 14 تا 22)
" اور خداوند نے موسیٰ سے کہا ........... سو اب تو لوگوں کے کان میں یہ بات ڈال دے کہ ان میں سے ہر شخص اپنے پڑوسی اور ہر عورت اپنی پڑوسن سے سونے چاندی کے زیور لے، اور خداوند نے ان لوگوں پر مصریوں کو مہربان کردیا " (باب 11۔ آیت 2۔ 3) " اور بنی اسرائیل نے موسیٰ کے کہنے کے موافق یہ بھی کیا کہ مصریوں سے سونے چاندی کے زیور اور کپڑے مانگ لیے اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ جو کچھ انہوں نے مانگا انہوں نے دیا، سو انہوں نے مصریوں کو لوٹ لیا "۔ (باب 12۔ آیت 35۔ 36)
افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے بھی قرآن کی اس آیت کی تفسیر میں بنی اسرائیل کی اس روایت کو آنکھیں بند کر کے نقل کردیا ہے اور ان کی اس غلطی سے مسلمانوں میں بھی یہ خیال پھیل گیا ہے کہ زیورات کا یہ بوجھ اسی لوٹ کا بوجھ تھا۔
آیت کے دوسرے ٹکڑے " اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا " کا مطلب ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ جب اپنے زیورات کو لادے پھرنے سے لوگ تنگ آگئے ہوں گے تو باہم مشورے سے یہ بات قرار پائی ہوگی کہ سب کے زیورات ایک جگہ جمع کرلیے جائیں، اور یہ نوٹ کرلیا جائے کہ کس کا کتنا سونا اور کس کی کتنی چاندی ہے، پھر ان کو گلا کر اینٹوں اور سلاخوں کی شکل میں ڈھال لیا جائے، تاکہ قوم کے مجموعی سامان کے ساتھ گدھوں اور بیلوں پر لاد کر چلا جاسکے۔ چناچہ اس قرارداد کے مطابق ہر شخص اپنے زیورات لا لا کر ڈھیر میں پھینکتا چلا گیا ہوگا۔