Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 88

  1. فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ﴿88﴾

    1. فَاَخْرَجَپھر اس نے نکالا
    2. لَهُمْان کے لیے
    3. عِجْلًاایک بچھڑا
    4. جَسَدًاایک قالب
    5. لَّهٗاس کے لیے
    6. خُوَارٌگائے کی آواز
    7. فَقَالُوْاپھر انہوں نے کہا
    8. ھٰذَآیہ
    9. اِلٰهُكُمْتمہارا معبود
    10. وَاِلٰهُاور معبود
    11. مُوْسٰىموسیٰ
    12. فَنَسِيَپھر وہ بھول گیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 68 یہاں سے پیراگراف کے آخر تک کی عبارت پو غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ قوم کا جواب " پھینک دیا تھا " پر ختم ہوگیا ہے اور بعد کی یہ تفصیل اللہ تعالیٰ خود بتارہا ہے۔ اس سے صورت واقعہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ لوگ پیش آنے والے فتنے سے بیخبر ، اپنے اپنے زیور لا لا کر ڈھیر کرتے چلے گئے، اور سامری صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ بعد میں زیور گلانے کی خدمت سامری صاحب نے اپنے ذمے لے لی، اور کچھ ایسی چال چلی کہ سونے کی اینٹیں یا سلاخیں بنانے کے بجائے ایک بچھڑے کی مورت بھٹی سے برآمد ہوئی جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ اس طرح سامری نے قوم کو دھوکا دیا کہ میں تو صرف سونا گلانے کا قصور وار ہوں، یہ تمہارا خدا آپ ہی اس شکل میں جلوہ فرما ہوگیا ہے۔