Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 94

  1. قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ﴿94﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. يَبْنَؤُمَّاے میرے ماں جائے
    3. لَا تَاْخُذْجنہ پکڑیں
    4. بِلِحْيَتِيْمجھے داڑھی سے
    5. وَلَا بِرَاْسِيْاور نہ سر سے
    6. اِنِّىْبیشک میں
    7. خَشِيْتُڈرا
    8. اَنْ تَقُوْلَکہ تم کہو گے
    9. فَرَّقْتَتونے تفرقہ ڈالدیا
    10. بَيْنَدرمیان
    11. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    12. وَاور
    13. لَمْ تَرْقُبْنہ خیال رکھا
    14. قَوْلِيْمیری بات
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہارونؑ نے جواب دیا”اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، 71 مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تُو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھُوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔“ 72
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 71 ان آیات کے ترجمے میں ہم نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ حضرت موسیٰ چھوٹے بھائی تھے مگر منصب کے لحاظ سے بڑے تھے، اور حضرت ہارون بڑے بھائی تھے مگر منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔ سورة طٰهٰ 72 حضرت ہارون کے اس جواب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قوم کا مجتمع رہنا اس کے راہ راست پر رہنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اور اتحاد چاہے وہ شرک ہی پر کیوں نہ ہو، افتراق سے بہتر ہے خوہ اس کی بنا حق اور باطل ہی کا اختلاف ہو۔ اس آیت کا یہ مطلب اگر کوئی شخص لے گا تو قرآن سے ہدایت کے بجائے گمراہی اخذ کرے گا۔ حضرت ہارون کی پوری بات سمجھنے کے لیے اس آیت کو سورة اعراف کی آیت 150 کے ساتھ ملا کر پڑہنا چاہیے۔ وہاں وہ فرماتے ہیں کہ اَبْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ کَادُوْا یَقْتُلُوْ نَنِیْ ۗ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَلٓا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ " میری ماں کے بیٹے، ان لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ میں مجھے شمار نہ کر "۔ اب ان دونوں آیتوں کو جمع کر کے دیکھیے تو صورت واقعہ کی یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ حضرت ہارون نے لوگوں کو اس گمراہی سے روکنے کی پوری کوشش کی، مگر انہوں نے آنجناب کے خلاف سخت فساد کھڑا کردیا اور آپ کو مار ڈالنے پر تل گئے۔ مجبوراً آپ اس اندیشے سے خاموش ہوگئے کہ کہیں حضرت موسیٰ کے آنے سے پہلے یہاں خانہ جنگی برپا نہ ہوجائے، اور وہ بعد میں آ کر شکایت کریں کہ تم اگر اس صورت حال سے عہدہ برآ نہ ہو سکے تھے تو تم نے معاملات کو اس حد تک کیوں بگڑنے دیا، میرے آنے کا انتظار کیوں نہ کیا۔ سورة اعراف والی آیت کے آخری فقرے سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ قوم میں دونوں بھائیوں کے دشمنوں کی ایک تعداد موجود تھی۔