تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 74
وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ﴿74﴾
- وَلُوْطًااور لوط
- اٰتَيْنٰهُہم نے اسے دیا
- حُكْمًاحکم
- وَّعِلْمًااور علم
- وَّنَجَّيْنٰهُاور ہم نے اسے بچالیا
- مِنَ الْقَرْيَةِبستی سے
- الَّتِيْجو
- كَانَتْ تَّعْمَلُکرتی تھی
- الْخَبٰٓئِثَگندے کام
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاوہ تھے
- قَوْمَ سَوْءٍبرے لوگ
- فٰسِقِيْنَبدکار
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور لُوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا 67 اور اُسے اُس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔۔۔۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بُری ، فاسق قوم تھی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 67
" حکم اور علم بخشنا " بالعموم قرآن مجید میں نبوت عطا کرنے کا ہم معنی ہوتا ہے۔ " حکم " سے مراد حکمت بھی ہے، صحیح قوت فیصلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سند حکمرانی (Authority) حاصل ہونا بھی۔ رہا " علم " تو اس سے مراد وہ علم حق ہے جو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا ہو۔ حضرت لوط کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ھود۔ آیات 69 تا 83۔ الحجر، آیات 57 تا 76۔