تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 23
Tafseerاِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ﴿23﴾
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- يُدْخِلُداخل کرے گا
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِصالح (نیک)
- جَنّٰتٍباغات
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
- الْاَنْهٰرُنہریں
- يُحَلَّوْنَ فِيْهَاوہ پہنائے جائیں گے اس میں
- مِنْ اَسَاوِرَکنگن
- مِنْ ذَهَبٍسونے کے
- وَّلُؤْلُؤًااور موتی
- وَلِبَاسُهُمْاور ان کا لباس
- فِيْهَااس میں
- حَرِيْرٌریشم
Translation · Tafheem-ul-Quran
(دُوسری طرف)جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتّوں میں داخل کرے گا جِن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے 38 اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 38
اس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ ان کو شاہانہ لباس پہنانے جائیں گے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس سونے اور جواہر کے زیور پہنتے تھے، اور خود ہمارے زمانے میں بھی ہندوستان کے راجہ اور نواب ایسے زیور پہنتے رہے ہیں۔