تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 24
Tafseerوَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ﴿24﴾
- وَهُدُوْٓااور انہیں ہدایت کی گئی
- اِلَىطرف
- الطَّيِّبِپاکیزہ
- مِنَسے۔ کی
- الْقَوْلِبات
- وَهُدُوْٓااور انہیں ہدایت کی گئی
- اِلٰىطرف
- صِرَاطِراہ
- الْحَمِيْدِتعریفوں کا لائق
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی 39 اور انھیں خدائے ستودہ صفات کا راتہ دکھایا گیا۔ 40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 39
اگرچہ پاکیزہ بات کے الفاظ عام ہیں، مگر مراد ہے وہ کلمہ طیبہ اور عقیدہ صالحہ جس کو قبول کرنے کی بنا پر وہ مومن ہوئے۔
سورة الْحَجّ 40
جیسا کہ دیباچے میں بیان کیا گیا ہے، ہمارے نزدیک یہاں سورے کا وہ حصہ ختم ہوجاتا ہے جو مکی دور میں نازل ہوا تھا۔ اس حصے کا مضمون اور انداز بیان وہی ہے جو مکہ سورتوں کا ہوا کرتا ہے، اور اس میں کوئی علامت بھی ایسی نہیں ہے جس کی بنا پر یہ شبہ کیا جاسکے کہ شاید یہ پورا حصہ، یا اس کا کوئی جز مدینے میں نازل ہوا ہو۔ صرف آیت ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ (یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے بارے میں جھگڑا ہے) کے متعلق بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ لیکن اس قول کی بنیاد صرف یہ ہے کہ ان کے نزدیک ان دو فریقوں سے مراد جنگ بدر کے فریقین ہیں، اور یہ کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ سیاق وسباق میں کہیں کوئی چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو اس اشارے کو اس جنگ کے فریقین کی طرف پھیرتی ہو۔ الفاظ عام ہیں، اور سیاق عبارت صاف بتارہا ہے کہ اس سے مراد کفر و ایمان کی اس نزاع عام کے فریقین ہیں جو ابتدا سے چلی آ رہی ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ جنگ بدر کے فریقین سے اس کا تعلق ہوتا تو اس کی جگہ سورة انفال میں تھی نہ کہ اس سورے میں اور اس سلسلہ کلام میں۔ یہ طریق تفسیر اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ قرآن کی آیات بالکل منتشر طریقہ پر نازل ہوئیں اور پھر ان کو بلا کسی ربط و مناسبت کے بس یونہی جہاں چاہا لگا دیا گیا۔ حالانکہ قرآن کا نظم کلام خود اس نظریے کی سب سے بڑی تردید ہے۔