تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 26
Tafseerوَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴿26﴾
- وَاِذْاور جب
- بَوَّاْنَاہم نے ٹھیک کردی
- لِاِبْرٰهِيْمَابراہیم کے لیے
- مَكَانَ الْبَيْتِخانہ کعبہ کی جگہ
- اَنْکہ
- لَّا تُشْرِكْنہ شریک کرنا
- بِيْمیرے ساتھ
- شَيْئًاکسی شے
- وَّطَهِّرْاور پاک رکھنا
- بَيْتِيَمیرا گھر
- لِلطَّآئِفِيْنَطواف کرنے والوں کے لیے
- وَالْقَآئِمِيْنَاور قیام کرنے والے
- وَالرُّكَّعِاور رکوع کرنے والے
- السُّجُوْدِسجدہ کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی اِس ہدایت کے ساتھ)کہ ”میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، 45
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 45
بعض مفسرین نے " پاک رکھو " پر اس فرمان کو ختم کردیا ہے جو حضرت ابراہیم کو دیا گیا تھا، اور " حج کے لیے اذن عام دے دو " کا خطاب نبی ﷺ کی طرف مانا ہے۔ لیکن انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ خطاب بھی حضرت ابراہیم ہی کی طرف ہے اور اسی حکم کا ایک حصہ ہے جو ان کو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دیا گیا تھا۔ علاوہ بریں مقصود کلام بھی یہاں یہی بتانا ہے کہ اول روز ہی سے یہ گھر خدائے واحد کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور تمام خدا پرستوں کو یہاں حج کے لیے آنے کا اذن عام تھا۔