Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 27

Tafseer
  1. وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ﴿27﴾

    1. وَاَذِّنْاور اعلان کردو
    2. فِي النَّاسِلوگوں میں
    3. بِالْحَجِّحج کا
    4. يَاْتُوْكَوہ تیرے پاس آئیں
    5. رِجَالًاپیدل
    6. وَّعَلٰياور پر
    7. كُلِّ ضَامِرٍہر دبلی اونٹنی
    8. يَّاْتِيْنَوہ آتی ہیں
    9. مِنْسے
    10. كُلِّ فَجٍّہر راستہ
    11. عَمِيْقٍدور دراز
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور لوگوں کو حج کے لیے اِذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں 46 پر سوار آئیں، 47
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 46 اصل میں لفظ ضامر، استعمال ہوا ہے جو خاص طور پر دبلے اونٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ اس سے ان مسافروں کی تصویر کھینچنا مقصود ہے جو دور دراز مقامات سے چلے آ رہے ہوں اور راستے میں ان کے اونٹ چارہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے دبلے ہوگئے ہوں۔ سورة الْحَجّ 47 یہاں وہ حکم ختم ہوتا ہے جو ابتداءً حضرت ابراہیم کو دیا گیا تھا، اور آگے کا ارشاد اس پر اضافہ ہے جو بطور تشریح مزید کیا گیا ہے۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کا خاتمہ اس قدیم گھر کا طواف کریں " پر ہوا ہے، جو ظاہر ہے کہ تعمیر خانہ کعبہ کے وقت نہ فرمایا گیا ہوگا۔ (حضرت ابراہیم کی تعمیر خانہ کعبہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو، سورة بقرہ، آیات 125۔ 129۔ آل عمران، آیات 96۔ 97۔ ابراہیم، آیات 35۔ 41)۔